Arabic (Original)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ أَعْتَقَ غُلاَمًا لَهُ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ عَنْ دُبُرٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ يَشْتَرِيهِ " . فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فَقِيرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى عِيَالِهِ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ فَعَلَى ذِي قَرَابَتِهِ " . أَوْ قَالَ " عَلَى ذِي رَحِمِهِ فَإِنْ كَانَ فَضْلاً فَهَا هُنَا وَهَا هُنَا " .
English Translation
Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him) states: A man of the Ansar named Abu Madhkur declared that his slave named Ya'qub would be free after his death (tadbir), but he had no property besides him. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) summoned the slave and stated: Who will buy him? Nu'aym ibn Abdullah ibn al-Nahham purchased him for eight hundred dirhams. He (blessings and peace of Allah be upon him) gave the money to the Ansari and stated: When any of you is poor, let him begin with himself. If anything remains, let him spend on his family. If anything still remains, let him spend on his relatives — or he said — on his kinfolk. If there is still something left over, then here and there (on the general needy).
Urdu Translation
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص جن کا نام ابومذکور تھا، نے اپنے ایک غلام جس کا نام یعقوب تھا اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا (تدبیر کی)، حالانکہ اس کے پاس اس غلام کے سوا کوئی اور مال نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اور ارشاد فرمایا: اسے کون خریدتا ہے؟ نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وہ رقم اس (انصاری) کو عطا فرمائی اور ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی فقیر ہو تو پہلے اپنی ذات سے شروع کرے، اگر اس میں سے بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے، اگر پھر بھی بچ جائے تو اپنے قرابت داروں پر خرچ کرے — یا فرمایا — اپنے رشتہ داروں پر، پھر اگر بچ جائے تو اِدھر اُدھر (عام مستحقین پر) خرچ کرے۔
