Arabic (Original)
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أَخْبَرَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ الْمِصْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ احْتَلَمْتُ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلاَسِلِ فَأَشْفَقْتُ إِنِ اغْتَسَلْتُ أَنْ أَهْلِكَ فَتَيَمَّمْتُ ثُمَّ صَلَّيْتُ بِأَصْحَابِي الصُّبْحَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " يَا عَمْرُو صَلَّيْتَ بِأَصْحَابِكَ وَأَنْتَ جُنُبٌ " . فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي مَنَعَنِي مِنَ الاِغْتِسَالِ وَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يَقُولُ { وَلاَ تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . قَالَ أَبُو دَاوُدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرٍ مِصْرِيٌّ مَوْلَى خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ وَلَيْسَ هُوَ ابْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ .
English Translation
Hadrat Amr ibn al-As (may Allah be well pleased with him) narrates: 'I had a wet dream on a cold night during the Battle of Dhat al-Salasil. I feared that if I bathed, I would perish. So I performed tayammum and led my companions in Fajr prayer. They mentioned this to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). He (blessings and peace of Allah be upon him) said: "O Amr, did you lead your companions in prayer while you were sexually defiled?" I explained what had prevented me from bathing and said: I heard Allah the Exalted say: "Do not kill yourselves; indeed, Allah is ever Merciful to you." The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) smiled and said nothing.' Abu Dawud states: Hadrat Abd al-Rahman ibn Jubayr is Egyptian, the freed slave of Kharijah ibn Hudhafah, and he is not the son of Jubayr ibn Nufayr.
Urdu Translation
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: غزوۂ ذاتِ السلاسل میں ایک سرد رات کو مجھے احتلام ہو گیا۔ مجھے خوف ہوا کہ اگر غسل کروں تو ہلاک ہو جاؤں گا۔ میں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عمرو! تم نے حالتِ جنابت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ میں نے وہ وجہ بتائی جس نے مجھے غسل سے روکا اور عرض کیا: میں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد سنا ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا﴾ (اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (یہ سن کر) مسکرائے اور کچھ نہیں فرمایا۔ حضرت ابوداؤد فرماتے ہیں: عبدالرحمٰن بن جبیر مصری ہیں، خارجہ بن حذافہ کے آزاد کردہ غلام، اور یہ جبیر بن نفیر کے بیٹے نہیں ہیں۔
