العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يَأْكُلُ الْقَرْعَ وَهُوَ يَقُولُ يَا لَكِ شَجَرَةً مَا أُحِبُّكِ إِلاَّ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِيَّاكِ . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Abu Talut that "I entered upon Hadrat Anas bin Malik while he was eating gourd, and he was saying: 'O you tree! I do not like you but because of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) liked you.'" He said: There is something on this topic from Hakim bin Jarir, from his father. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib from this route
الترجمة الأردية
ابو طالوت کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک کے پاس گیا، وہ کدو کھا رہے تھے، اور کہہ رہے تھے: اے بیل! کس قدر تو مجھے پسند ہے! کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تجھے پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- اس باب میں حکیم بن حضرت جابر سے بھی روایت ہے جسے حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔
