العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سَوِيَّةَ أَبُو الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عِكْرَاشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عِكْرَاشِ بْنِ ذُؤَيْبٍ قَالَ بَعَثَنِي بَنُو مُرَّةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِصَدَقَاتِ أَمْوَالِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ " هَلْ مِنْ طَعَامٍ " . فَأُتِينَا بِجَفْنَةٍ كَثِيرَةِ الثَّرِيدِ وَالْوَذْرِ وَأَقْبَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا فَخَبَطْتُ بِيَدِي مِنْ نَوَاحِيهَا وَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَبَضَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى يَدِي الْيُمْنَى ثُمَّ قَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ مَوْضِعٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ طَعَامٌ وَاحِدٌ " . ثُمَّ أُتِينَا بِطَبَقٍ فِيهِ أَلْوَانُ الرُّطَبِ أَوِ التَّمْرِ عُبَيْدُ اللَّهِ شَكَّ قَالَ فَجَعَلْتُ آكُلُ مِنْ بَيْنِ يَدَىَّ وَجَالَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الطَّبَقِ وَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ كُلْ مِنْ حَيْثُ شِئْتَ فَإِنَّهُ غَيْرُ لَوْنٍ وَاحِدٍ " . ثُمَّ أُتِينَا بِمَاءٍ فَغَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَيْهِ وَمَسَحَ بِبَلَلِ كَفَّيْهِ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَالَ " يَا عِكْرَاشُ هَذَا الْوُضُوءُ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ " . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ الْعَلاَءِ بْنِ الْفَضْلِ وَقَدْ تَفَرَّدَ الْعَلاَءُ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلاَ نَعْرِفُ لِعِكْرَاشٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ هَذَا الْحَدِيثَ .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat 'Ikrash bin Dhu'aib that "Banu Murrah bin 'Ubaid sent me to bring the Sadaqah from their wealth of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). I arrived with him in Al-Madinah and found him sitting between the Muhajirin and the Ansar." He said: "Then he took my hand and brought me to the home of Hadrat Umm Salamah and he said: 'Do you have any food?' So a bowl containing a lot of Tharid with pieces of meat was brought to us, and presented for us to eat from it. So I began wandering my around it while the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ate from what was in front of him. He grabbed my right hand with his left hand, then he said: 'O 'Ikrash! Eat from one spot, for indeed the food is one.' Then a plate containing various dried dates" - or fresh dates - 'Ubaidullah (a narrator) was not sure. He said: "I began eating what was in front of me, while the hand of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) roamed about the plate. He said: 'O 'Ikrash! Eat from wherever you like, for indeed it is not all from the same variety.' Then water was brought, so the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) washed his hands, and with the wetness of his hands he wiped his face, his forearms, and his head, and he said: 'O Ikrash! This is the Wudu' for that which has been altered by fire.'" [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Gharib, we do not know of it except through the narration of Al-'Ala' bin Al-Fadl, and Al-Ala'was alone with this narration, and there is more in the story in the Hadith. And we do not know a Hadith from the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) by 'Ikrash except this
الترجمة الأردية
حضرت عکراش بن ذؤیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو مرہ بن عبید نے اپنی زکاۃ کا مال دے کر مجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، میں آپ کے پاس مدینہ آیا تو آپ کو مہاجرین اور انصار کے بیچ بیٹھا پایا، پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر لے گئے اور پوچھا: ”کھانے کے لیے کچھ ہے؟“ چنانچہ ایک پیالہ لایا گیا جس میں زیادہ ثرید ( شوربا میں ترکی ہوئی روٹی ) اور بوٹیاں تھیں، ہم اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے، میں پیالہ کے کناروں پر اپنا ہاتھ مارنے لگا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اپنے سامنے سے کھانے لگے، پھر آپ نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا دایاں ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ”عکراش! ایک جگہ سے کھاؤ اس لیے کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے“، پھر ہمارے پاس ایک طبق لایا گیا جس میں مختلف قسم کی کھجوریں تھیں، میں اپنے سامنے سے کھانے لگا، اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ طبق میں گھومنے لگا، آپ نے فرمایا: ”عکراش! جہاں سے چاہو کھاؤ، اس لیے کہ یہ ایک قسم کا نہیں ہے“، پھر ہمارے پاس پانی لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور ہتھیلیوں کی تری سے چہرے، بازو اور سر پر مسح کیا اور فرمایا: ”عکراش! یہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد کا وضو ہے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف علاء بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، علاء اس حدیث کی روایت کرنے میں منفرد ہیں، ۳- ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عکراش کی صرف اسی حدیث کو جانتے ہیں۔
