العربية (الأصل)
نَاجَرِيرٌ، عَنْمُغِيرَةَ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَعَفَا أَخُوهَا عَنْ صَدَاقِهَا، فَارْتَفَعُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَأَجَازَ عَفْوَهُ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ:" أَنَا أَعْفُو عَنْ صَدَاقِ بَنِي مُرَّةَ، فَكَانَ يَقُولُ بَعْدُ: الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ، أَنْ يَعْفُوَ عَنِ الصَّدَاقِ كُلِّهِ، فَيُسَلِّمَهُ لَهَا، أَوْ تَعْفُوَ هِيَ عَنِ النِّصْفِ الَّذِي فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا، وَإِنْ تَشَاحَّا، فَلَهَا نِصْفُ الصَّدَاقِ".
الترجمة الإنجليزية
Al-Sha'bi (may Allah have mercy on him) narrated: A man from among us married a woman, and her husband divorced her before consummation. Her brother pardoned her dowry. They took the matter to Shurayh, and he upheld the brother's pardon. Later he said: I pardon the dowries of Banu Murrah. After that he used to say: 'The one in whose hand is the marriage tie' is the husband — he either pardons the entire dowry and gives it to her, or she pardons the half that Allah designated for her. If they dispute, she receives half the dowry.
الترجمة الأردية
شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا:”ہم میں سے ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، پھر اس کے شوہر نے اس سے خلوت سے پہلے طلاق دے دی، تو اس کے بھائی نے اس کا مہر معاف کر دیا، پس وہ لوگ شریح رحمہ اللہ کے پاس گئے تو انہوں نے اس کی معافی کو جائز قرار دیا، پھر بعد میں فرمایا: میں بنی مرہ کے مہر کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد وہ فرمایا کرتے تھے: ’جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے‘ اس سے مراد شوہر ہے، کہ وہ پورے مہر کو معاف کرے اور وہ عورت کو دے دے، یا عورت اس نصف مہر کو معاف کر دے جو اللہ عزوجل نے اس کے لیے مقرر کیا ہے، اور اگر دونوں میں اختلاف ہو تو عورت کو نصف مہر ملے گا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 390]
