العربية (الأصل)
نا نا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِأَبَا مُوسَى الأَشْعَرِيَّ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَبَعَثَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى الْكُوفَةِ، فَلَمَّا فَتَحَ أَبُو مُوسَى تُسْتَرَ، كَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ أَنْ يَجْعَلَهَا، مِنْ عَمَلِ الْبَصْرَةِ، وَكَتَبَ سَعْدٌ إِلَى عُمَرَ أَنْ يَجْعَلَهَا مِنْ عَمَلِ الْكُوفَةِ، فَسَبَقَ رَسُولُ أَبِي مُوسَى، وَهُوَ مَجْزَأَةُ بْنُ ثَوْرٍ، أَوْ شَقِيقُ بْنُ ثَوْرٍ، فَسَأَلَ عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينِ، فَقِيلَ: إِنَّهُ فِي حَائِطٍ، فَأَتَاهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَبَّرَ الرَّسُولُ، فَكَبَّرَ عُمَرُ: فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، تُسْتَرُ مِنْ عَمَلِ الْبَصْرَةِ؟ قَالَ:" نَعَمْ , هِيَ مِنْ عَمَلِ الْبَصْرَةِ"، فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْكِتَابَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" أَخْبِرْنِي عَنْ حَالِ النَّاسِ" , قَالَ: إِنَّرَجُلا مِنَ الْعَرَبِ ارْتَدَّ عَنِ الإِسْلامِ، فَقَرَّبْنَاهُ، فَضَرَبْنَا عُنُقَهُ، فَقَالَ:" أَلا أَدْخَلْتُمُوهُ بَيْتًا فَطَيَّنْتُمْ عَلَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ أَلْقَيْتُمْ إِلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ رَغِيفًا، فَلَعَلَّهُ يَرْجِعُ، اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أَشْهَدْ، وَلَمْ آمُرْ، وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِي".
الترجمة الإنجليزية
When Abu Musa conquered Tustar, both he and Sa'd ibn Abi Waqqas wrote to 'Umar claiming it for their respective provinces. Abu Musa's messenger arrived first. When the messenger reported that a man had apostated and was executed, 'Umar said: "Could you not have imprisoned him for three days, given him bread each day — perhaps he would return? O Allah, I did not witness it, did not order it, and did not approve it when I heard of it."
الترجمة الأردية
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا۔ جب ابو موسیٰ نے تستر فتح کی تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ تستر کو بصرہ کے ماتحت کر دیا جائے۔ سعد نے بھی لکھا کہ اسے کوفہ کے ماتحت کیا جائے۔ ابو موسیٰ کا قاصد (مجزأہ بن ثور یا شقیق بن ثور) پہلے پہنچا اور عمر رضی اللہ عنہ سے ملا۔ جب قاصد نے عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو تکبیر کہی، عمر رضی اللہ عنہ نے بھی تکبیر کہی۔ قاصد نے کہا:”امیر المومنین! تستر بصرہ میں شامل؟“عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”ہاں، یہ بصرہ کا علاقہ ہے۔“پھر قاصد نے خط دیا اور بتایا کہ ایک شخص مرتد ہو گیا تھا، ہم نے اسے قتل کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”کاش اسے تین دن قید کر کے ہر دن ایک روٹی دیتے، شاید توبہ کر لیتا۔ اے اللہ! میں نے نہ دیکھا، نہ حکم دیا، نہ خوش ہوا جب یہ خبر پہنچی۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3763]
