العربية (الأصل)
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدَةَ، أَنَّأَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا أَمَّرَ عَلَى الأَجْنَادِ: يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى جُنْدٍ، وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جُنْدٍ، وَشُرَحْبِيلَ ابْنَ حَسَنَةَ عَلَى جُنْدٍ، وَأَمَّرَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى جُنْدٍ، ثُمَّ جَعَلَ يَزِيدَ عَلَى الْجَمَاعَةِ، وَخَرَجَ مَعَهُ يُشَيِّعُهُ وَيُوصِيهِ، وَيَزِيدُ رَاكِبٌ، وَأَبُو بَكْرٍ يَمْشِي إِلَى جَنْبِهِ، فَقَالَ يَزِيدُ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ! إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ، وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ وَأَمْشِيَ مَعَكَ، فَقَالَ:" إِنِّي لَسْتُ بِرَاكِبٍ، وَلَسْتُ بِتَارِكِكَ أَنْ تَنْزِلَ , إِنِّي أَحْتَسِبُ هَذَا الْخَطْوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، يَا يَزِيدُ،إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ أَرْضًا يُقَدَّمُ إِلَيْكُمْ فِيهَا أَلْوَانُ الأَطْعِمَةِ، فَسَمُّوا اللَّهَ إِذَا أَكَلْتُمْ، وَاحْمَدُوهُ إِذَا فَرَغْتُمْ، يَا يَزِيدُ، إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ قَوْمًا قَدْ فَحَصُوا أَوْسَاطَ رُءُوسِهِمْ فَهِيَ كَالْعَصَائِبِ، فَفَلَقُوا هَامَهُمْ بِالسُّيُوفِ، وَسَتَمُرُّونَ عَلَى قَوْمٍ فِي صَوَامِعَ لَهُمْ، احْتَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ فِيهَا، فَدَعْهُمْ حَتَّى يُمِيتَهُمُ اللَّهُ فِيهَا عَلَى ضَلالَتِهِمْ، يَا يَزِيدُ! لا تَقْتُلْ صَبِيًّا، وَلا امْرَأَةً، وَلا صَغِيرًا، وَلا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلا تَعْقِرَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلا دَابَّةً عَجْمَاءَ، وَلا بَقَرَةً، وَلا شَاةً إِلا لِمَأْكَلَةٍ، وَلا تَحْرِقَنَّ نَخْلا، وَلا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلا تَغْلُلْ، وَلا تَجْبُنْ".
الترجمة الإنجليزية
When Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be pleased with him) appointed commanders over the armies — Yazid ibn Abi Sufyan over one division, 'Amr ibn al-'As over another, Shurahbil ibn Hasanah over another, and Khalid ibn al-Walid over another — he made Yazid commander over all of them and walked beside him to bid him farewell. Yazid said: "O Successor of the Messenger of Allah, either ride or let me dismount and walk with you." Abu Bakr said: "I will neither ride nor let you dismount. I seek the reward of these steps in the cause of Allah. O Yazid, you will come to a land where various foods will be placed before you — mention Allah's name when you eat and praise Him when you finish. O Yazid, you will encounter people who have shaved the centers of their heads like bands — strike their skulls with swords. You will pass by people in hermitages who have confined themselves therein — leave them until Allah causes them to die in their misguidance. O Yazid, do not kill a child, nor a woman, nor an elderly person. Do not destroy what is inhabited. Do not cut down a fruit-bearing tree. Do not slaughter a beast of burden, nor a cow, nor a sheep, except for food. Do not burn palm trees. Do not drown them. Do not embezzle. Do not be cowardly."
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عبید بن نشیط رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کیے تو یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ، خالد بن ولید رضی اللہ عنہم کو الگ الگ جیشوں پر مقرر کیا۔ یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو ان تمام پر سردار مقرر کیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود ان کے ساتھ پیدل چلے، نصیحتیں کرتے ہوئے۔ یزید نے کہا:”اے خلیفۃ رسول اللہ! یا تو آپ سوار ہوں، یا میں اتر کر پیدل آپ کے ساتھ چلوں۔“تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:”نہ میں سوار ہوں گا، نہ تمہیں اترنے دوں گا، میں اللہ کی راہ میں ان قدموں کا ثواب چاہتا ہوں۔“پھر فرمایا:”وہاں تمہیں بہت سی کھانے پینے کی چیزیں پیش کی جائیں گی، کھاتے وقت اللہ کا نام لو، ختم کرو تو الحمد للہ کہو۔ تم ایسے لوگوں سے ملو گے جنہوں نے اپنے سروں کو صاف کیا ہوگا، ان کے سر پٹوں جیسے ہوں گے، تلواروں سے ان کے سروں کو چیر دو۔ کچھ لوگ تمہیں صوامع میں قید شدہ ملیں گے، جو عبادت میں گم ہیں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔“پھر فرمایا:”کسی بچے، عورت یا بوڑھے کو قتل نہ کرنا۔ آباد علاقہ نہ اجاڑنا۔ پھلدار درخت، بے زبان جانور، گائے، بکری صرف کھانے کے لیے ہی ذبح کرنا۔ نخلستان کو نہ جلانا، نہ ڈبونا۔ خیانت نہ کرنا۔ بزدلی نہ دکھانا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3560]
