العربية (الأصل)
ناهُشَيْمٌ، أناأَبُو بِشْرٍ، عَنْحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَىالنُّعْمَانِبِجَارِيَتِهَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ عِنْدِي فِي ذَلِكَ خَبَرًا شَافِيًا أُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتِ أَذِنْتِ لَهُ ضَرَبْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ كُنْتِ لَمْ تَأْذَنِي لَهُ رَجَمْتُهُ"، فَقَالَ لَهَا النَّاسُ: زَوْجُكِ وَأَبُو وَلَدِكِ يُرْجَمُ! قُولِي: قَدْ كُنْتُ أَذِنْتُ لَهُ، وَإِنَّمَا حَمَلَنِي عَلَى ذَلِكَ الْغَيْرَةُ، قَالَ: فَضَرَبَهُ مِائَةً".
الترجمة الإنجليزية
Habib ibn Salim, the freed slave of al-Nu'man ibn Bashir, reported: A woman came to al-Nu'man with her slave girl. Al-Nu'man said: "I have a clear report from the Messenger of Allah (peace be upon him) about this: 'If you gave him permission, he shall be flogged one hundred times. If you did not give permission, he shall be stoned.'" The people told the woman: "He is your husband and the father of your children — will he be stoned? Say you gave him permission; jealousy merely drove you to deny it." She said: "Yes, I gave him permission; jealousy drove me to it." So al-Nu'man flogged the man one hundred times.
الترجمة الأردية
حضرت حبیب بن سالم رحمہ اللہ، جو سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں: ایک عورت اپنی باندی کو لے کر سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی۔ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا:”میرے پاس اس بارے میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی ایک واضح حدیث موجود ہے، میں تمہیں وہ سنا دیتا ہوں: اگر تم نے اس (مرد) کو اجازت دی ہے، تو میں اسے سو کوڑے ماروں گا، اور اگر تم نے اجازت نہیں دی، تو میں اسے رجم (سنگسار) کروں گا۔“لوگوں نے اس عورت سے کہا:”تمہارا شوہر ہے، تمہارے بچوں کا باپ ہے، اسے رجم کر دیا جائے گا؟ (ایسا نہ ہونے دو!) کہہ دو کہ تم نے اسے اجازت دی تھی۔“تو عورت نے کہا:”ہاں، میں نے اجازت دی تھی، بس غیرت کی وجہ سے انکار کیا تھا۔“چنانچہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے اس مرد کو سو کوڑے مارے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3434]
