العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاهُشَيْمٌ، أنايَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ سَهْلٍ كَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ فِي خَلْقِهِ مِنْهُ إِلَيْهَا، فَجَاءَتْ بِالْغَلَسِ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ , قَالَ:" مَنْ هَذِهِ"؟ قَالَتْ: أَنَا حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ. قَالَتْ: لا أَنَا وَلا ثَابِتٌ. قَالَ:" إِنَّ ثَابِتًا لَيُثْنَى عَلَيْهِ"؟ قَالَتْ: وَهُوَ كَذَلِكَ، وَلَكِنْ لا أَنَا وَلا هُوَ. فَلَمْ يَكُ شَيْءٌ حَتَّى جَاءَ ثَابِتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُيَأْخُذُ حَدِيقَتَهُ". قَالَتْ: لِيَأْخُذْهَا. وَكَانَ أَصْدَقَهَا إِيَّاهَا، فَأَخَذَ حَدِيقَتَهُ، وَجَلَسَتْ عِنْدَ أَهْلِهَا.
الترجمة الإنجليزية
'Amrah bint Abd al-Rahman narrated that Habibah bint Sahl was married to Thabit ibn Qays ibn Shammas, and there was something about his physical appearance that she disliked. She came at dawn and sat at the door of the Messenger of Allah (peace be upon him). When he came out, he said: "Who is this?" She said: "I am Habibah bint Sahl. I cannot stay with Thabit." He said: "Is not Thabit well-spoken of?" She said: "Indeed, but still I cannot be with him." So the Prophet (peace be upon him) told Thabit: "Take back the garden (you gave her as dowry)." She said: "Let him take it." So he took back the garden and she sat in her house (observing her waiting period).
الترجمة الأردية
سیدہ حبیبہ بنت سهل رضی اللہ عنہا، جو سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، صبح صبح رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے دروازے پر آئیں، اور کہا: نہ میں ثابت کے ساتھ رہ سکتی ہوں اور نہ وہ میرے ساتھ۔ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ثابت کے بارے میں تو خیر کی شہادت دی جاتی ہے؟ وہ بولیں: جی ہاں، لیکن نہ میں اس کے ساتھ اور نہ وہ میرے ساتھ۔ پھر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اپنا باغ لے لو۔ سیدہ حبیبہ نے کہا: وہ لے لے۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس لے لیا اور سیدہ حبیبہ اپنے گھر میں بیٹھ گئیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2607]
