العربية (الأصل)
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مَهْدي بن رُستُم، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو المثنَّى ومحمد بن أيوب، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن أبيه قال: أتيتُ رسول الله ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئةِ، قال:"هل لكَ من مالٍ؟" قلت: نعم، قال:"من أيِّ المال؟" قلت: من كلٍّ، مِن الإبل والخيل والرَّقيق والغنم، قال:"فإذا آتاكَ الله مالًا فليُرَ عليك". قال: وقال رسول الله ﷺ:"هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فَتَعمِدَ إلى المُوسَى فتقطعَ آذانَها وتقولَ: هي بُحُرٌ، وتَشُقَّها أو تشقَّ جلودَها، أو تقول: هي صُرُمٌ(2)، فتحرِّمَها عليك وعلى أهلك؟" قال: قلت: نعم، قال:"فكلُّ ما آتاكَ الله لك حِلٌّ، وساعِدُ اللهِ أشدُّ من ساعدِك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوسَاك"(3).هذا حديث صحيح الإسناد، وقد رواه جماعة من أئمَّة الكوفيين عن أبي إسحاق، وقد تابع أبو الزَّعْراء عمرُو بن عمرو أبا إسحاق السَّبِيعي في روايته عن أبي الأحوص(1)، ولم يُخرجاه؛ لأنَّ مالك بن نَضْلة الجُشَمي ليس له راوٍ غيرُ ابنه أبي الأحوص، وقد خرَّج مسلم عن أبي المَلِيح بن أسامة عن أبيه، وليس له راوٍ غيرُ ابنه(2)، وكذلك عن أبي مالك الأشجعي عن أبيه، وهذا أَولى من ذلك كله.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 65 - صحيح الإسناد
الترجمة الإنجليزية
Malik ibn Nadlah (Abu al-Ahwas's father, may Allah be pleased with him) narrated: "I came to the Messenger of Allah (peace be upon him) in a disheveled state. He asked: 'Do you have wealth?' I said: 'Yes.' He asked: 'What kind of wealth?' I said: 'Of all kinds — camels, horses, slaves, and sheep.' He said: 'When Allah gives you wealth, let its effect be seen on you.' Then the Messenger of Allah (peace be upon him) asked: 'Are the camels of your people born with their ears intact, and then you take a blade and cut their ears and say: These are bahirah (slit-eared), and you split their skin and say: These are surm (forbidden), and you make them forbidden to yourselves and your families?' I said: 'Yes.' He said: 'Everything that Allah has given you is lawful for you. The arm of Allah is mightier than your arm, and the blade of Allah is sharper than your blade.'"
الترجمة الأردية
سیدنا مالک بن نضلہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی بارگاہ میں پراگندہ حالت میں حاضر ہوئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کیا تمہارے پاس مال ہے؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”کس قسم کا مال ہے؟“میں نے عرض کیا: ہر قسم کا، اونٹ، گھوڑے، غلام اور بکریاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کیا تمہاری قوم کے اونٹ کانوں کے ساتھ صحیح سلامت پیدا ہوتے ہیں اور تم استرا لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ’بحر‘ (بغیر کان والے) ہیں، اور تم ان کے کان یا کھالیں چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ ’صرم‘ (حرام) ہیں، پھر انہیں اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟“میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”پس جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے، اور اللہ کا ہاتھ تمہارے ہاتھ سے زیادہ مضبوط ہے اور اللہ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اسے کوفی ائمہ کی ایک جماعت نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے، اور ابوزعراء عمرو بن عمرو نے ابواسحاق سبیعی کی متابعت کی ہے، ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ مالک بن نضلہ کا ان کے بیٹے ابواحوص کے سوا کوئی راوی نہیں، حالانکہ امام مسلم نے ابوملیح بن اسامہ عن ابیہ کی روایت نقل کی ہے جس میں ان کے بیٹے کے سوا کوئی راوی نہیں، اور اسی طرح ابومالک اشجعی کی اپنے والد سے روایت ہے، لہٰذا یہ ان سب سے زیادہ اولیٰ ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 65]
