العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو عاصم، حدثنا صالح بن رُستُم، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة قالت: جاءت عجوزٌ إلى النبي ﷺ وهو عندي، فقال لها رسول الله ﷺ:"من أنتِ؟" قالت: أنا جَثّامةُ المُزَنيَّة، فقال:"بل أنتِ حَسّانةُ المُزَنية، كيف أنتم؟ كيف حالُكم؟ كيف كنتم بعدَنا؟" قالت: بخير بأبي أنت وأمي يا رسول الله، فلما خَرَجَت قلتُ: يا رسول الله، تُقبِلُ على هذه العجوز هذا الإقبالَ! فقال:"إنها كانت تأتينا زمنَ خديجةَ، وإِنَّ حُسْنَ العهدِ من الإيمان"(1).هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد اتفقا على الاحتجاج برُواتِه في أحاديثَ كثيرة، وليس له عِلّة.[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 40 - على شرطهما وليست له علة
الترجمة الإنجليزية
'A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated: "An old woman came to the Prophet (peace be upon him) while he was with me. The Messenger of Allah (peace be upon him) asked her: 'Who are you?' She said: 'I am Jathhamah al-Muzaniyyah.' He said: 'Rather, you are Hassanah al-Muzaniyyah. How are you all? How is your condition? How have you been since we last met?' She said: 'We are well, may my father and mother be sacrificed for you, O Messenger of Allah.' When she left, I said: 'O Messenger of Allah, you showed such attention to this old woman!' He said: 'She used to visit us in the time of Khadijah, and indeed, honoring past ties is part of faith.'" Al-Hakim graded it sahih according to the criteria of both al-Bukhari and Muslim with no defect.
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک بوڑھی خاتون نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آئیں جب آپصلی اللہ علیہ وسلممیرے پاس تشریف فرما تھے، رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے ان سے پوچھا:”آپ کون ہیں؟“انہوں نے عرض کیا: میں جثامہ مزنیہ ہوں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”نہیں، بلکہ تم حسنہ مزنیہ ہو، تم سب کیسے ہو؟ تمہارا کیا حال ہے؟ ہمارے بعد تمہارا وقت کیسا گزرا؟“انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان، ہم بخیر و عافیت ہیں۔ جب وہ چلی گئیں تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بڑھیا کی اس قدر پذیرائی فرما رہے تھے! تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی، اور بے شک پرانے تعلق کو اچھے طریقے سے نبھانا ایمان کا حصہ ہے۔“یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ان دونوں نے متعدد احادیث میں اس کے راویوں سے احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 40]
