العربية (الأصل)
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن عياش بن عباس القِتْباني، عن زيد بن أسلمَ، عن أبيه: أنَّ عمرَ خرج إلى المسجد يومًا فوَجَدَ معاذَ بنَ جبل عند قبر رسول الله ﷺ يبكي، فقال: ما يُبكيكَ يا معاذُ؟ قال: يُبكيني حديثٌ سمعتُه من رسول الله ﷺ يقول:"اليسيرُ من الرِّياءِ شِركٌ، ومَن عادى أولياءَ الله فقد بارَزَ اللهَ بالمحارَبة، إنَّ الله يحبُّ الأبرارَ الأتقياءَ الأخفياءَ، الذين إنْ غابُوا لم يُفتَقَدُوا، وإن حَضَروا لم يُعرَفُوا، قلوبهم مصابيحُ الهدى، يَخرُجون من كل غبراءَ مُظلِمة"(1).هذا حديث لم يُخرَّج في"الصحيحين"، وقد احتجَّا جميعًا بزيد بن أسلم عن أبيه عن الصحابة، واتفقا جميعًا على الاحتجاج بحديث الليث بن سعد عن عياش بن عباس القِتْباني، وهذا إسنادٌ مصري صحيح، ولا يُحفَظ له عِلّة(1).[التعليق - من تلخيص الذهبي]ترقيم العلميه 4 - صحيح ولا علة له
الترجمة الإنجليزية
Zayd ibn Aslam narrated from his father that 'Umar (may Allah be pleased with him) went out to the mosque one day and found Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) weeping near the grave of the Messenger of Allah (peace be upon him). He asked: "What makes you weep, O Mu'adh?" He replied: "A hadith I heard from the Messenger of Allah (peace be upon him) makes me weep. He said: 'Even a little showing off (riya') is polytheism (shirk). Whoever shows enmity to the friends of Allah has openly declared war against Allah. Indeed, Allah loves the pious, God-fearing, and obscure people — those who, when they are absent, are not missed, and when they are present, are not recognized. Their hearts are lamps of guidance, and they emerge from every dusty, dark tribulation.'" Al-Hakim graded it sahih with a sound Egyptian chain.
الترجمة الأردية
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن مسجد کی طرف نکلے تو انہوں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی قبر مبارک کے پاس بیٹھے روتے ہوئے پایا، انہوں نے پوچھا: اے معاذ! آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مجھے اس حدیث نے رلایا ہے جو میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنی تھی، آپصلی اللہ علیہ وسلمفرما رہے تھے:”معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے ولیوں سے دشمنی کی اس نے اللہ کے ساتھ اعلانیہ اعلانِ جنگ کیا، بے شک اللہ ایسے نیکوکار، متقی اور گمنام لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اگر غائب ہوں تو انہیں تلاش نہیں کیا جاتا اور اگر وہ حاضر ہوں تو انہیں پہچانا نہیں جاتا، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، وہ ہر گرد آلود تاریک فتنوں سے نکل آتے ہیں۔“یہ ایسی حدیث ہے جس کی تخریج”صحیحین“میں نہیں کی گئی، حالانکہ ان دونوں نے زید بن اسلم عن ابیہ کے واسطے سے صحابہ کرام سے احتجاج کیا ہے، اور ان دونوں نے عیاش بن عباس القتبانی سے لیث بن سعد کی روایت پر احتجاج کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور یہ ایک صحیح مصری سند ہے جس میں کوئی علت معلوم نہیں ہوتی۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 4]
