العربية (الأصل)
أخبرَناه أبو الفضل الحَسَن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا أبو حيَّان يحيى بن سعيد بن حيَّان التَّيْمِيُّ، تَيْمُ الرَّبَاب، حدثني يزيد بن حيَّان التَّيمي قال: شهدتُ زيدَ بن أرقمَ وبَعَثَ إليه عبيدُ الله بن زياد، فقال: ما أحاديثُ بَلَغَني عنك تحدِّث بها عن رسول الله ﷺ تَزعُم أنَّ له حوضًا في الجنة؟ فقال: حدثنا ذاك رسولُ الله ﷺ ووَعَدَناه، فقال: كذبتَ، ولكنك شيخ قد خَرِفتَ، قال: أمَا إنه سَمِعَتْه أُذناي من رسول الله ﷺ يعني - وسمعتُه يقول:"مَن كَذَبَ علي متعمِّدًا فليَتَبوَّأْ مقعدَه من النار"، وما كذبتُ على رسول الله ﷺ(1).
الترجمة الإنجليزية
Yazid ibn Hayyan al-Taymi narrated: I was present with Zayd ibn Arqam when Ubaydullah ibn Ziyad sent for him and asked: "What are these hadiths you narrate from the Messenger of Allah (peace be upon him), claiming that he has a Pool in Paradise?" Zayd said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) told us about it and promised it to us." Ibn Ziyad said: "You are lying; you are an old man who has lost his mind." Zayd said: "My ears heard it from the Messenger of Allah (peace be upon him), and I heard him say: 'Whoever deliberately lies about me, let him take his seat in the Fire.' I have not lied about the Messenger of Allah."
الترجمة الأردية
یزید بن حیان تیمی سے روایت ہے کہ میں سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جب عبیداللہ بن زیاد نے انہیں بلا بھیجا اور کہا: یہ کیسی حدیثیں ہیں جو مجھے آپ کے بارے میں پہنچی ہیں کہ آپ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے بیان کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ جنت میں آپصلی اللہ علیہ وسلمکا ایک حوض ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہمیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ حدیث سنائی تھی اور اس کا وعدہ فرمایا تھا؛ تو اس نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں، آپ (زید بن ارقم) بوڑھے ہو کر سٹھیا گئے ہیں؛ زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک میرے ان کانوں نے اسے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے سنا ہے اور میں نے آپصلی اللہ علیہ وسلمکو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ:”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے“، اور میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر کبھی جھوٹ نہیں بولا۔اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں حوض کا ذکر ان الفاظ کے علاوہ ہے۔[المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 260]
