العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، وَيَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ، أَنَّهَا قَالَتْ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَتَبَسَّمُ - قَالَتْ - فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَضْحَكَكَ قَالَ " نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَىَّ يَرْكَبُونَ ظَهْرَ هَذَا الْبَحْرِ الأَخْضَرِ " . ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat It has been reported on the authority of Umm Haram daughter of Milhan (through another chain of transmitters). She said:One day the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) slept (at a place) near me. He woke up smiling. She said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). what made thee laugh? He said: A people from my followers were presented to me. They were sailing on the surface of this green sea... (here follows the tradition that has gone before)
الترجمة الأردية
لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے ابن حبان سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے اپنی خالہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے ، پھر آپ مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا : " مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو اس بحر اخضر پر سوار ہو کر جا رہے ہیں ۔ " پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
