العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ أَلَمْ تَرَىْ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ بِئْسَمَا صَنَعَتْ . فَقَالَ أَلَمْ تَسْمَعِي إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لاَ خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn al-Qasim narrated on the authority of his father that 'Urwa b. Zubair (Allah be pleased with him) said to Hadrat 'A'isha (Allah be pleased with her):Didn't you see that such and such daughter of al-Hakam was divorced by her husband with an irrevocable divorce, and she left (the house of her husband)? Thereupon Hadrat 'A'isha (Allah be pleased with her) said: It was bad that she did. He ( Urwa) said: Have you not heard the words of Hadrat Fatima? Thereupon she said: There if no good for her in making mention of it
الترجمة الأردية
سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : عروہ بن حضرت زبیر نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا : کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا؟ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیں تو وہ ( اس کے گھر سے ) چلی گئی ۔ ( حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : اس نے برا کیا ۔ عروہ نے پوچھا : کیا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول نہیں سنا؟ تو انہوں نے جواب دیا : دیکھو! اس کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے
