العربية (الأصل)
947 صحيح حديث عَائِشَةَ، وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ لِعَائِشَةَ: أَلَمْ تَرَيْنَ إِلَى فُلاَنَةَ بِنْتِ الْحَكَمِ، طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ فَقَالَتْ: بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قَالَ: أَلَمْ تَسْمَعِي فِي قَوْلِ فَاطِمَةَ قَالَتْ: أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ لَهَا خَيْرٌ فِي ذِكْرِ هذَا الْحَدِيثِ
الترجمة الإنجليزية
Urwah ibn al-Zubayr said to Aisha (may Allah be pleased with her): "Did you not see so-and-so daughter of al-Hakam? Her husband divorced her irrevocably and she left." Aisha said: "What a terrible thing she did." Urwah asked: "Did you not hear what Fatimah (bint Qays) said?" Aisha replied: "It is not in her favor to cite that hadith (i.e., the case of Fatimah bint Qays was specific and should not be generalized)."
الترجمة الأردية
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ کیا آپ فلانہ (عمرہ) بنتِ حکم کا معاملہ نہیں دیکھتیں؟ ان کے شوہر نے انہیں طلاقِ بائنہ دے دی اور وہ وہاں سے نکل آئیں (عدت گزارے بغیر)۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتلایا کہ جو کچھ اس نے کیا، بہت برا کیا۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: کیا آپ نے فاطمہ (بنتِ قیس) رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے متعلق نہیں سنا؟ انہوں نے بتلایا کہ اس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الطلاق/حدیث: 947]
