العربية (الأصل)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ. قَالَ: «أَو قد وجدتموه» قَالُوا: نعم. قَالَ: «ذَاك صَرِيح الْإِيمَان» . رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
He said that some of the companions of God’s messenger came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) to consult him saying, “We have thoughts which none of us dare to talk about.” He said, “Have you experienced that?” and when they replied that they had, he said, “That is clear faith.” Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا: ہمارے دلوں میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کا ذکر کرنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا واقعی تمہیں ایسا ہوتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: یہ خالص ایمان ہے۔ (مسلم)
