العربية (الأصل)
وَعَنْهُ قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى سَبَقُوا الْمُشْرِكِينَ إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ» . قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحُمَامِ: بَخْ بَخْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يَحْمِلُكَ عَلَى قَوْلِكَ: بَخْ بَخْ؟ " قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا رَجَاءَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا» قَالَ: فَأَخْرَجَ تَمَرَاتٍ مِنْ قَرْنِهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُنَّ ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ أَنَا حَيِيتُ حَتَّى آكل تمراتي إِنَّهَا الْحَيَاة طَوِيلَةٌ قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
الترجمة الإنجليزية
He told that God’s Messenger and his companions went off and reached Badr before the polytheists, and when the polytheists arrived he said, “Rise to go to a garden whose breadth is as great as the heavens and the earth.” ‘Umair b. al-Humam thereupon said, “Bravo, bravo!” and when God’s Messenger asked him what had made him say that, he replied, “Nothing, I swear by God, Messenger of God, but a hope that I might be among its inhabitants.” He told him that he would be among them. He then took some dates out of his quiver and began to eat them, but after a little said, “If I live till I eat my dates it will mean a long life.” So he threw away the dates he had and then fought with the enemy till he was killed. Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے بدر پہنچ گئے۔ جب مشرکین آئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: واہ واہ! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں واہ واہ کہنے پر کس چیز نے ابھارا؟ عرض کیا: بخدا یا رسول اللہ! صرف یہ امید کہ میں اس کے اہل میں سے ہو جاؤں۔ فرمایا: تم اس کے اہل میں سے ہو۔ پھر انہوں نے اپنے ترکش سے کچھ کھجوریں نکالیں اور کھانے لگے، پھر کہا: اگر میں ان کھجوروں کے کھانے تک زندہ رہا تو یہ بڑی لمبی زندگی ہے۔ پس انہوں نے کھجوریں پھینک دیں اور لڑے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔ (مسلم)
