العربية (الأصل)
وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدَّيْلِمِيِّ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ اسْتَشَارَ فِي حَدِّ الْخَمْرِ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَرَى أَنْ تَجْلِدَهُ ثَمَانِينَ جَلْدَةً فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ وَإِذَا سَكِرَ هَذَى وَإِذَا هذَى افْتَرى فجلدَ عمرُ رَضِي الله عَنهُ فِي حَدِّ الْخَمْرِ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ مَالِكٌ
الترجمة الإنجليزية
Thaur b. Zaid ad-Dailami told that ‘Umar sought counsel about the prescribed punishment for drinking wine and Hadrat 'Ali said to him, “I think you should give one who drinks it eighty lashes, for when he drinks he becomes intoxicated, when he is intoxicated he raves, and when he raves he makes up lies.” So ‘Umar inflicted eighty lashes as the punishment prescribed for drinking wine. Malik transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ثور بن زید دیلمی سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کی حد کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے فرمایا: میری رائے ہے کہ آپ اسے اسی کوڑے لگائیں کیونکہ جب وہ پیتا ہے تو نشے میں آتا ہے، جب نشے میں آتا ہے تو بکواس کرتا ہے اور جب بکواس کرتا ہے تو بہتان باندھتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کی حد اسی کوڑے مقرر کر دی۔ (مالک)
