العربية (الأصل)
عَن عُمَيْر بن سعيد النخفي قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ عَلَى أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يسنه
الترجمة الإنجليزية
‘Umair b. Sa'id an-Nakha‘i told that he heard Hadrat 'Ali b. Abu Talib say, “I am not one to have any feelings about a man who dies when I inflict a prescribed punishment on him, with the exception of one who has drunk wine, for if he were to die I would pay blood wit for him. Thai is because God’s Messenger did not lay down any specific custom regarding him.” (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت عمیر بن سعید نخعی سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو فرماتے سنا: میں کسی پر حد قائم کروں اور وہ مر جائے تو مجھے کوئی ملال نہ ہو، سوائے شراب پینے والے کے، کیونکہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت دوں گا، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے کوئی مقرر مقدار نہیں فرمائی۔ (بخاری و مسلم)
