العربية (الأصل)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بالنقيع بِالدَّنَانِيرِ فآخذ مَكَانهَا الدارهم وأبيع بِالدَّرَاهِمِ فَآخُذُ مَكَانَهَا الدَّنَانِيرَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّ��مَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ibn ‘Umar said he used to sell camels at an-Naqi‘for dinars and take dirhams for them, and sell for dirhams and take dinars for them. He went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned that to him, and he replied, “There is no harm in taking them at the current rate so long as you do not separate leaving something still to be settled.” Tirmidhi, Abu Dawud, Nasa’i and Darimi transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نقیع میں دینار کے عوض اونٹ بیچتا تھا اور اس کی جگہ درہم لیتا، اور درہم کے عوض بیچتا اور اس کی جگہ دینار لیتا۔ میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اس دن کے بھاؤ کے مطابق لینے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ تم الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان کچھ باقی نہ رہے۔ (ترمذی، حضرت ابوداؤد، نسائی، دارمی)
