العربية (الأصل)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن بيع الثِّمَارِ حَتَّى تَزْهَى قِيلَ: وَمَا تَزْهَى؟ قَالَ: حَتَّى تخمر " وَقَالَ: «أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذ أحدكُم مَال أَخِيه؟»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas said that God’s Messenger forbade the sale of fruits till tuzhiya. He was asked what that meant and said it meant till they became red, adding, “Tell me:when God keeps back the fruit, why should any of you take his brother’s property?” (Bukhari and Muslim.)
الترجمة الأردية
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا جب تک رنگین نہ ہوں۔ پوچھا گیا: رنگین ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب تک سرخ نہ ہوں۔ اور فرمایا: بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ پھل روک لے تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس حق سے لے گا؟ (بخاری و مسلم)
