العربية (الأصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلَائِكَةَ فَيَقُولُ: مَا أَرَادَ هَؤُلَاءِ ". رَوَاهُ مُسلم
الترجمة الإنجليزية
‘A’isha reported God’s messenger as saying, “There is no day when God sets free more servants from hell than the day of ‘Arafa. He draws near, then praises them (Literally, ‘boasts of them.’) to the angels saying, ‘What do these want ?”’(The reference is probably to their undertaking the vicissitudes of the Pilgrimage) Muslim transmitted it.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کے دن سے زیادہ کسی دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگ سے آزاد نہیں فرماتا، اور بے شک وہ قریب ہوتا ہے، پھر فرشتوں کے سامنے ان کی فخر سے تعریف فرماتا ہے اور کہتا ہے: یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ (مسلم)
