العربية (الأصل)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ طَمِثْتُ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ: «لَعَلَّكِ نَفِسْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِي»
الترجمة الإنجليزية
‘A’isha said:We went out with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mentioning nothing but the hajj, and when we were at Sarif (A place near at-Tan'im) I began to menstruate. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came in and finding me weeping, he said, “Perhaps you are menstruating.” When I replied that I was, he said, “That is something which God has decreed for the daughters of Adam (upon him be peace); but do what the pilgrims do, with the exception of going round the House, till you are purified.” Bukhari and Muslim.
الترجمة الأردية
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہماری نیت صرف حج کی تھی۔ جب ہم مقامِ سَرِف پہنچے تو مجھے حیض آ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: شاید تمہیں حیض آ گیا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: یہ تو ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنات آدم پر لکھ دی ہے، پس تم وہ سب کچھ کرو جو حاجی کرتے ہیں سوائے بیت اللہ کے طواف کے، یہاں تک کہ تم پاک ہو جاؤ۔ (بخاری و مسلم)
