العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ، مَوْلَى عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَادَى أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ لَحِقَهُ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدَهُ عَلَى يَدِهِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ " إِنِّي لأَرْجُو أَنْ لاَ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى تَعْلَمَ سُورَةً مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلاَ فِي الإِنْجِيلِ وَلاَ فِي الْقُرْآنِ مِثْلَهَا " . قَالَ أُبَىٌّ فَجَعَلْتُ أُبْطِئُ فِي الْمَشْىِ رَجَاءَ ذَلِكَ ثُمَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ السُّورَةَ الَّتِي وَعَدْتَنِي . قَالَ " كَيْفَ تَقْرَأُ إِذَا افْتَتَحْتَ الصَّلاَةَ " . قَالَ فَقَرَأْتُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هِيَ هَذِهِ السُّورَةُ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ " .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik from al-Ala ibn Abd ar-Rahman ibn Yaqub that Hadrat Abu Said, the mawla of Amir ibn Kuraz told him that the Beloved Messenger of Allah called toUbayy ibn Kab while he was praying. When Hadrat Ubayy had finished his prayer he joined the Beloved Messenger of Allah and the Beloved Messenger of Allah put his hand upon his hand, and he was intending to leave by the door of the mosque, so the Messenger of Allah said, "I hope that you will not leave the mosque until you know a sura whose like Allah has notsentdown in the Tawrah nor in the Injil nor in the Qur'an." Ubayysaid, "I began to slow down my pace in the hope of that. Then I said, 'Beloved Messenger of Allah, the sura you promised me!' He said, 'What do you recite when you begin the prayer?' I recited the Fatiha (Sura 1 ) until I came to the end of it, and the Messengerof Allah said, 'It is this sura, and it is the "seven oft-repeated" and the Great Qur'an which I was given.' "
الترجمة الأردية
حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا ابی بن کعب کو اور وہ نماز پڑھ رہے تھے تو جب نماز سے فارغ ہوئے مل گئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے پس رکھا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ اپنا ابی کے ہاتھ پر اور وہ نکلنا چاہتے تھے مسجد کے دروازے سے سو فرمایا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے میں چاہتا ہوں کہ نہ نکلے تو مسجد کے دروازے سے یہاں تک کہ سیکھ لے ایک سورت ایسی کہ نہیں اتری تورات اور انجیل اور قرآن میں مثل اس کے کہا ابی نے پس ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگا میں اسی امید میں پھر کہا میں نے اے اللہ کے رسول وہ سورت جس کا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وعدہ کیا تھا بتلائیے مجھ کو فرمایا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیونکر پڑھتا ہے تو جب شروع کرتا ہے نماز کو کہا ابی نے تو میں پڑھنے لگا الحمد للہ رب العالمین یہاں تک کہ ختم کیا میں نے سورت کو پس فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے وہ یہی سورت ہے اور یہ سورت سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ۔
