العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ . أَنَّ صُكُوكًا، خَرَجَتْ لِلنَّاسِ فِي زَمَانِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ طَعَامِ الْجَارِ فَتَبَايَعَ النَّاسُ تِلْكَ الصُّكُوكَ بَيْنَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَدَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَقَالاَ أَتُحِلُّ بَيْعَ الرِّبَا يَا مَرْوَانُ . فَقَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ وَمَا ذَاكَ فَقَالاَ هَذِهِ الصُّكُوكُ تَبَايَعَهَا النَّاسُ ثُمَّ بَاعُوهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفُوهَا فَبَعَثَ مَرْوَانُ الْحَرَسَ يَتْبَعُونَهَا يَنْزِعُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ وَيَرُدُّونَهَا إِلَى أَهْلِهَا .
الترجمة الإنجليزية
Yahya (upon him be peace) related to me from Malik that he had heard that receipts were given to people in the time of Marwan ibn al-Hakam for the produce of the market at al-Jar. People bought and sold the receipts among themselves before they took delivery of the goods. Hadrat Zayd Thabit and one of the Companions of the Beloved Messenger of Allah went to Marwan ibn al-Hakam and said, "Marwan! Do you make usury halal?" He said, "I seek refuge with Allah! What is that?" He said, "These receipts which people buy and sell before they take delivery of the goods." Marwan therefore sent a guard to follow them and to take them from people's hands and return them to their owners.
الترجمة الأردية
نافع سے روایت ہے کہ حکیم بن حزام نے غلہ خریدا جو حضرت عمر نے لوگوں کو دلوایا تھا پھر حکیم بن حزام نے اس غلہ کو بیچ ڈالا قبضہ سے پہلے جب حضرت عمر کو اس کی خبر پہنچی آپ نے وہ غلہ حکیم بن حزام کو پھر وا دیا اور کہا جس غلہ کو تو خریدے پھر اس کو مت بیچ جب تک اس پر قبضہ نہ کر لے ۔ امام مالک کو پہنچا کہ مروان بن حکم کے عہد حکومت میں لوگوں کو سندیں ملیں جار کے غلہ کی لوگوں نے ان سندوں کو بیچا ایک دوسرے کے ہاتھ قبل اس بات کے کہ غلہ اپنے قبضة میں لائیں تو زید بن ثابت اور ایک اور صحابہ مروان کے پاس گئے اور کہا کیا تو ربا کو درست جانتا ہے اے مروان مروان نے کہا حضرت معاذاللہ کیا کہتے ہو انہوں نے کہا کہ یہ سندیں جن لوگوں نے خریدا پھر خرید کر دوبارہ بیچا قبلہ غلہ لینے کے مروان نے چوکیدار کو بھیجا کہ وہ سندیں لوگوں سے چھین کر سند والوں کے حوالے کر دیں ۔ امام مالک کو پہنچا ایک شخص نے اناج خریدنا چاہا ایک شخص سے وعدے پر تو بائع (بچنے والا) مشتری (خریدنے والا) کو بازار میں لے گیا اور اس کو بورے دکھا کر کہنے لگا کون سے غلہ میں تمہاری واسطے خرید کروں مشتری (خریدنے والا) نے کہا کیا تو میرے ہاتھ اس چیز کا بیچتا ہے جو خود تیرے پاس نہیں ہے پھر بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں حضرت عبداللہ بن عمر کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا حضرت عبداللہ بن عمر نے مشتری (خریدنے والا) سے کہا مت خریدو اس چیز کو جو بائع (بچنے والا) کے پاس نہیں ہے اور بائع (بچنے والا) سے کہا مت بیچ اس چیز کو جو تیرے پاس نہیں ہے ۔
