العربية (الأصل)
973 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ تَلَقَّوُا الرُّكْبَانَ وَلاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ(قَالَ الرَّاوِي)فَقُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ لاَ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ: لاَ يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا
الترجمة الإنجليزية
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "We were forbidden from a city dweller selling on behalf of a desert dweller, even if he is his brother or his father."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”(تجارتی) قافلوں سے آگے جا کر نہ ملا کرو (ان کو منڈی میں آنے دو) اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے“(راوی کہتے ہیں) کہ اس پر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکے اس ارشاد کا کہ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے“مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ دلال نہ بنے۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب البيوع/حدیث: 973]
