العربية (الأصل)
931 صحيح حديث جَابِرٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَلَمَّا قَفَلْنَا تَعَجَّلْتُ عَلَى بَعِيرٍ قَطُوفٍ، فَلَحِقَنِي رَاكِبٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ قَالَ: مَا يُعْجِلُكَ قُلْتُ: إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: فَبِكْرًا تَزَوَّجْتَ أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا قَالَ: فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَهَبْنَا لِنَدْخُلَ، فَقَالَ: أَمْهِلُوا حَتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً أَيْ عِشَاءً لِكَيْ تَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ وَتَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَفِي هذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ: الْكَيْسَ الْكَيْسَ يَا جَابِرُ يَعْنِي الْوَلَدَ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If a woman marries without the permission of her guardian, her marriage is void, her marriage is void, her marriage is void."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ ایک جہاد (تبوک) میں تھا، جب ہم واپس ہو رہے تھے تو میں اپنے سست رفتار اونٹ کو تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا، اتنے میں میرے پیچھے سے ایک سوار میرے قریب آئے، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتھے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم اتنی جلدی کیوں کر رہے ہو؟“میں نے عرض کیا کہ میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے دریافت فرمایا:”تم نے کنواری عورت سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟“میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”تم نے کنواری سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی؟“سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر جب ہم (مدینہ) پہنچے تو ہم نے چاہا کہ شہر میں داخل ہو جائیں لیکن آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”ٹھہر جاؤ، یہاں تک کہ رات ہو جائے تاکہ تمہاری بیویاں، جو پراگندہ بال ہیں وہ کنگھی چوٹی کر لیں اور جن کے خاوند غائب تھے وہ زیرِ ناف بال صاف کر لیں۔“اور اسی حدیث میں ہے کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے یہ بھی فرمایا:«الْكَيْسَ الْكَيْسَ»”عقلمندی اختیار کرو، عقلمندی اختیار کرو۔“یعنی اے جابر! جب تم گھر پہنچو تو خوب عقلمندی کرنا (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا:«الْكَيْسُ»کا یہی مطلب ہے کہ اولاد ہونے کی خواہش کرنا)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 931]
