العربية (الأصل)
929 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَزَوَّجْتَ فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ ثَيبًا فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِلْعَذَارَى وَلِعَابِهَا قَالَ مُحَارِبٌ(أَحَدُ رِجَالِ السَّنَدِ): فَذَكَرْتُ ذلِكَ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، فَقَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ
الترجمة الإنجليزية
A'ishah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "One or two sucklings do not make (a woman) unlawful."
الترجمة الأردية
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے شادی کی تو نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے دریافت فرمایا:”کس سے شادی کی ہے؟“میں نے عرض کیا کہ ایک بیوہ عورت سے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”کنواری سے کیوں نہ کی کہ اس کے ساتھ تم کھیل کود کرتے؟“محارب (سند کے ایک راوی) نے کہا کہ پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکا یہ ارشاد عمرو بن دینار سے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے مجھ سے فرمایا:”تم نے کسی کنواری عورت سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیل کود کرتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الرضاع/حدیث: 929]
