العربية (الأصل)
802 صحيح حديث عَائِشَةَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ: أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى(إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)فَلاَ أُرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَلاَّ، لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ كَانَتْ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لاَ يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هذِهِ الآيَة فِي الأَنْصَارِ كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ، وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا جَاءَ الإِسْلاَمُ سَأَلُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذلِكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى(إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا)
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): Urwah said: "I said to Aishah, the wife of the Prophet (peace be upon him), while I was young: 'Do you see the saying of Allah Most High: Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah. So whoever makes Hajj to the House or performs Umrah, there is no blame upon him for walking between them (Quran 2:158)?' I see no blame on anyone who does not walk between them.' Aishah said: 'No! If it were as you say, it would read: there is no blame upon him in not walking between them. This verse was revealed concerning the Ansar, who used to assume Ihram for Manat (an idol), which was near Qudayd. They used to feel hesitant about performing Sa'y between Safa and Marwah. When Islam came, they asked the Messenger of Allah (peace be upon him) about that, and Allah Most High revealed: Indeed, Safa and Marwah are among the symbols of Allah. So whoever makes Hajj to the House or performs Umrah, there is no blame upon him for walking between them.'"
الترجمة الأردية
عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ مطہرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾[سورة البقرة: 158]، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا، یہ سن کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں! اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا، وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ﴿صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں﴾[سورة البقرة: 158]۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 802]
