العربية (الأصل)
761 صحيح حديث جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ عَطَاءٍ؛ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، قَالَ: أَهْلَلْنَا، أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ: فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، وَقَالَ: أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءَ قَالَ عَطَاءٌ، قَالَ جَابِرٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ، وَلكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ؛ فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلاَّ خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُر مَذَاكِيرُنَا الْمَذْيَ قَالَ، وَيَقُولَ جَابِرٌ، بِيَدِهِ هكَذَا، وَحَرَّكَهَا؛ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ للهِ وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، وَلَوْلاَ هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، فَحِلُّوا فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِى مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا
الترجمة الإنجليزية
Narrated Jabir ibn Abdullah (may Allah be pleased with them both): Ata' said: I heard Jabir ibn Abdullah say among a group of people: "We, the Companions of the Messenger of Allah (peace be upon him), assumed Ihram for Hajj only, without combining it with Umrah." Ata' said: Jabir said: "The Prophet (peace be upon him) arrived on the morning of the fourth of Dhul-Hijjah. When we arrived, the Prophet (peace be upon him) ordered us to come out of Ihram and said: 'Come out of Ihram and be intimate with your wives.'" Ata' said: Jabir said: "He did not make it obligatory upon them, but he made it permissible for them. It reached him that we were saying: 'When there are only five days between us and Arafah, he orders us to come out of Ihram and go to our wives, so we would come to Arafah with our private parts dripping.'" Jabir made a gesture with his hand like this. The Messenger of Allah (peace be upon him) stood up and said: "You know that I am the most God-fearing, the most truthful, and the most pious among you. Were it not for my sacrificial animal, I would have come out of Ihram as you are doing. So come out of Ihram. If I could have foreseen what I now realize, I would not have brought the sacrificial animal." So we came out of Ihram, and we listened and obeyed.
الترجمة الأردية
عطاء نے بیان کیا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں۔ اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”حلال ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔“عطاء نے بیان کیا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا۔ پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی آپصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو؟ عطاء نے کہا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو۔ پھر نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکھڑے ہوئے اور فرمایا:”تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں۔ اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا۔ پس تم بھی حلال ہو جاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔“چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلمکی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 761]
