العربية (الأصل)
757 صحيح حديث عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلاَّ الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: مَا لَكِ، أَنُفِسْتِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: إِنَّ هذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاقْضِى مَا يَقْضِى الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Aishah (may Allah be pleased with her): "We went out with no intention other than Hajj. When we were at Sarif, I menstruated. The Messenger of Allah (peace be upon him) came to me while I was crying. He said: 'What is the matter with you? Have you got your menses?' I said: 'Yes.' He said: 'This is something that Allah has decreed for the daughters of Adam. Do what the pilgrim does, except that you should not perform Tawaf of the House.' She said: 'And the Messenger of Allah (peace be upon him) sacrificed cows on behalf of his wives.'"
الترجمة الأردية
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے۔ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی اور اس رنج میں رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے پوچھا:”تمہیں کیا ہوا؟ کیا حائضہ ہوگئی ہو؟“میں نے کہا: جی ہاں۔ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ دیا ہے۔ اس لیے تم بھی حج کے افعال پورے کر لو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحج/حدیث: 757]
