العربية (الأصل)
46 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ خالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّى لَنا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ بالحُدَيْبِيَةِ عَلى إِثْرِ سَماءٍ كانَتْ مِنَ اللَّيْلَةِ، فَلَمّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلى النَّاسِ فَقالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذا قَالَ رَبُّكُمْ قَالوا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبادي مُؤْمِنٌ بِيَ وَكافِرٌ، فَأَمّا مَنْ قَالَ مُطِرْنا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِيَ وَكافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمّا مَنْ قَالَ مُطِرْنا بِنَوْءِ كَذا وَكَذا فَذَلِكَ كافِرٌ بِيَ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "We are the last (to come) but the first on the Day of Judgment, even though others were given the Book before us and we were given it after them. This (Friday) is the day about which they differed. Allah guided us to it, and the people follow us: the Jews tomorrow (Saturday) and the Christians the day after tomorrow (Sunday)."
الترجمة الأردية
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی، نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمنے لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا:”معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟“لوگوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وسلمخوب جانتے ہیں، (آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ) تمہارے رب کا ارشاد ہے:”صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے اور کچھ میرے منکر ہوئے۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کا منکر ہے، اور جس نے کہا کہ فلاں تارے کے فلاں جگہ پر آنے سے بارش ہوئی وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الايمان/حدیث: 46]
