العربية (الأصل)
267 صحيح حديث أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي وَاللهِ لأَتأَخَّرُ عَنْ صَلاَةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلاَنٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا فِيهَا قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: يأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ؛ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُوجِزْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Mas'ud al-Ansari: A man came to the Messenger of Allah (peace be upon him) and said: "I stay away from the morning prayer because so-and-so makes it too long." I never saw the Prophet (peace be upon him) more angered in a sermon than he was that day. He said: "O people, some of you are driving people away! Whoever leads people in prayer should keep it light, for among them are the sick, the weak, and those who have needs."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم، میں صبح کی جماعت میں فلاں (معاذ بن جبل یا ابی بن کعب) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتے کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے، پھر آپ نے فرمایا:”اے لوگو! تم میں سے بعض (نمازیوں کو) نفرت دلانے والے ہیں، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہیے کیونکہ (جماعت میں) بوڑھے، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الصلاة/حدیث: 267]
