العربية (الأصل)
207 صحيح حديث عَمَّارٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ وَأَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسى لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدِ المَاءَ شَهْرًا، أَمَا كَانَ يَتَيَمَّمُ وَيُصَلِّي كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِهذِهِ الآيَةِ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ(فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا)فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: لَوْ رُخِّصَ لَهُمْ فِي هذَا لأَوْشَكُوا إِذَا بَرَدَ عَلَيْهِمُ الْمَاءَ أَنْ يَتَيَمَّموا الصَّعِيدَ قُلْتُ: وَإِنَّمَا كَرِهْتُمْ هذَا لِذَا قَالَ: نَعَمْ فَقَالَ أَبُو مُوسى: أَلَمْ تَسْمَع قَوْلَ عَمَّارٍ لِعُمَر: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَأَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَاءَ، فَتَمَرَّغْتُ فِي الصَّعِيدِ كَما تَمَرَّغُ الدَّابَّةُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَصْنَعَ هكَذَا؛ فَضَرَبَ بِكَفِّهِ ضَرْبَةً عَلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَضَهَا، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا ظَهْرَ كَفِّهِ بِشِمَالِهِ، أَوْ ظَهْرَ شَمَالِهِ بِكَفِّهِ، ثُمَّ مَسَحَ بِهَا وَجْهَه فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَفَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِقَوْلِ عَمَّارٍ
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ammar, from Shaqiq, who said: I was sitting with Abdullah [ibn Mas'ud] and Abu Musa al-Ash'ari. Abu Musa said to him: "If a man is in a state of janabah and cannot find water for a month, should he not perform tayammum and pray? What do you do with this verse in Surah al-Ma'idah: 'And if you find no water, then seek clean earth'?" Abdullah said: "If they were given this concession, they would soon resort to tayammum when the water was cold." I said: "So you only dislike it for this reason?" He said: "Yes." Abu Musa said: "Did you not hear what Ammar said to Umar: 'The Messenger of Allah (peace be upon him) sent me on an errand. I became junub and could not find water, so I rolled on the ground as a donkey rolls. I mentioned this to the Prophet (peace be upon him), and he said: It would have been enough for you to do this' — and he struck the ground with his palms and blew on them, then wiped his face and hands with them."
الترجمة الأردية
شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر ایک شخص کو غسل کی حاجت ہو اور مہینہ بھر پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کر کے نماز نہ پڑھے؟ شقیق کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ وہ تیمم نہ کرے اگرچہ وہ ایک مہینہ تک پانی نہ پائے (اور نماز موقوف رکھے)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر سورہ مائدہ کی اس آیت﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾[سورة المائدة: 6]کا کیا مطلب ہو گا کہ”اگر تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی پر تیمم کر لو“؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے کہ اگر لوگوں کو اس کی اجازت دے دی جائے تو جلدی یہ حال ہو جائے گا کہ جب ان کو پانی ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم ہی کر لیں گے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا: تو آپ نے جنبی کے لیے تیمم اس لیے برا جانا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا آپ کو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ قول معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کسی کام کے لیے بھیجا تھا، سفر میں مجھے غسل کی ضرورت ہو گئی لیکن پانی نہیں ملا اس لیے میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہو گیا، پھر میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کیا تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تمہارے لیے صرف اتنا کرنا کافی تھا“اور آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنے ہاتھوں کو زمین پر ایک مرتبہ مارا پھر ان کو جھاڑ کر بائیں ہاتھ سے داہنے کی پشت کو مل لیا یا بائیں ہاتھ کا داہنے ہاتھ سے مسح کیا پھر دونوں ہاتھوں سے چہرے کا مسح کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کا جواب دیا کہ آپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھتے کہ انہوں نے عمار کی بات پر قناعت نہیں کی تھی؟[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الحيض/حدیث: 207]
