العربية (الأصل)
1858 صحيح حديث أَبِي سعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حدِيثًا طَوِيلاً عَنِ الدَّجَالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ أنْ قَالَ: يَأْتِي الدَّجَّالُ، وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلُ نِقَابِ الْمَدِينَةِ، بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَرَأَيْتُ إِنْ قَتَلْتُ هذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ، هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ فَيَقُولُون: لاَ فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ فَيَقُولُ، حِينَ يُحْيِيهِ: وَاللهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْيَوْمَ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَقْتُلُهُ، فَلاَ أُسَلَّطُ عَلَيْهِ
الترجمة الإنجليزية
Abu Sa'id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) narrated to us a lengthy hadith about the Dajjal, saying among other things: "The Dajjal will come, but he will be forbidden from entering the mountain passes of Madinah. He will stop at one of the barren lands near Madinah, and a man who is the best — or among the best — of people will go out to him and say: 'I testify that you are the Dajjal about whom the Messenger of Allah told us.' The Dajjal will say: 'What do you think — if I kill this man and bring him back to life, will you have any doubt?' They will say: 'No.' So he will kill him and bring him back to life, and the man will say: 'By Allah, I have never been more certain about you than I am now.' The Dajjal will want to kill him again but will not be able to."
الترجمة الأردية
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے دجال کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کی، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے اپنی حدیث میں یہ بھی فرمایا تھا کہ”دجال مدینہ کی ایک کھاری شور زمین تک پہنچے گا، اس پر مدینہ میں داخلہ تو حرام ہو گا (مدینہ سے) اس دن ایک شخص اس کی طرف نکل کر بڑھے گا، یہ لوگوں میں ایک بہترین نیک مرد ہو گا یا (یہ فرمایا کہ) بزرگ ترین لوگوں میں سے ہو گا، وہ شخص کہے گا کہ”میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق ہمیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اطلاع دی تھی“، دجال کہے گا:”کیا میں اسے قتل کر کے پھر زندہ کر ڈالوں تو تم لوگوں کو میرے معاملے میں کوئی شبہ رہ جائے گا؟“اس کے حواری کہیں گے:”نہیں“، چنانچہ دجال انہیں قتل کر کے پھر زندہ کر دے گا۔ جب دجال انہیں زندہ کر دے گا تو وہ بندہ کہے گا:”بخدا! اب تو مجھے پورا حال معلوم ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے“، دجال کہے گا:”لاؤ اسے پھر قتل کر دوں“، لیکن اس مرتبہ وہ قابو نہ پا سکے گا۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 1858]
