العربية (الأصل)
1818 صحيح حديث ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ فِينَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً(كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ)الآيَةَ وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلاَئِقِ يُكْسى يَوْمَ الْقَيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ وَإِنَّهُ سَيُجَاءُ بِرِجَالٍ مَنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أُصَيْحَابِي فَيَقُولُ: إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ:(وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ)إِلَى قَوْلِهِ(الْحَكِيمُ)قَالَ: فَيُقَالُ إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "Paradise and the Fire disputed. Allah judged between them. He said to Paradise: 'You are My mercy; through you I show mercy to whom I will of My servants.' And He said to the Fire: 'You are My punishment; through you I punish whom I will of My servants.' Each of them shall be filled. As for the Fire, it will not be filled until Allah places His foot upon it and it says: 'Enough, enough!' Then it will be filled and its parts will draw together. And Allah will not wrong any of His creation. As for Paradise, Allah will create new creation for it."
الترجمة الأردية
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا:”تم لوگ قیامت کے دن اس حال میں جمع کیے جاؤ گے کہ ننگے پاؤں اور ننگے جسم ہو گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ﴾[سورة الأنبياء: 104]”جس طرح ہم نے شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح لوٹا دیں گے“اور تمام مخلوقات میں سب سے پہلے جسے کپڑا پہنایا جائے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے اور میری امت کے بہت سے لوگ لائے جائیں گے جن کے اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ میں اس پر کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے تمہارے بعد کیا کیا نئی نئی بدعات نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا:﴿وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ﴾[سورة المائدة: 117]”یا اللہ! میں جب تک ان میں موجود رہا اس وقت تک میں ان پر گواہ تھا“۔“رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بیان فرمایا کہ فرشتے (مجھ سے) کہیں گے کہ:”یہ لوگ ہمیشہ اپنی ایڑیوں کے بل پھرتے ہی رہے۔“(مرتد ہوتے رہے)۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 1818]
