العربية (الأصل)
1587 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا خَرَجَ، أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَكَانَ النَبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ فَقَالَتْ حَفْصَةُ: أَلاَ تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكَ تَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ فَقَالَتْ: بَلَى فَرَكِبَتْ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ، وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهَا، ثُمَّ سَارَ حَتَّى نَزَلوا وَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَلَمَّا نَزَلُوا، جَعَلَتْ رِجْلَيْهَا بَيْنَ الإِذخِرِ، وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي، وَلاَ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا
الترجمة الإنجليزية
Narrated 'A'ishah (may Allah be pleased with her): When the Prophet (peace be upon him) went on a journey, he would draw lots among his wives. Once the lot fell on 'A'ishah and Hafsah. The Prophet (peace be upon him) used to travel at night alongside 'A'ishah, conversing with her. Hafsah said to 'A'ishah, "Why don't you ride my camel tonight and I ride yours, so you can see something different and I can too?" She agreed. The Prophet (peace be upon him) came to 'A'ishah's camel, on which Hafsah was riding, greeted her, and traveled until they stopped. 'A'ishah missed him, and when they dismounted, she put her feet among the idhkhir grass, saying, "O Lord, send upon me a scorpion or a snake to sting me. I cannot say anything to him about it."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمجب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج کے لیے قرعہ ڈالتے۔ ایک مرتبہ قرعہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے نام کا نکلا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلمرات کے وقت حسب معمول چلتے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلتے۔ ایک مرتبہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آج رات کیوں نہ تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر تاکہ تم بھی نئے مناظر دیکھ سکو اور میں بھی۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کر لی اور (ہر ایک دوسرے کے اونٹ پر) سوار ہو گئیں۔ اس کے بعد آپصلی اللہ علیہ وسلمعائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس تشریف لائے۔ اس وقت اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انہیں سلام کیا، پھر چلتے رہے، جب پڑاؤ ہوا تو حضورصلی اللہ علیہ وسلمکو معلوم ہوا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس میں نہیں ہیں (اس غلطی پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس درجہ رنج ہوا کہ) جب لوگ سواریوں سے اتر گئے تو ام المومنین نے اپنے پاؤں اذخر گھاس (جس میں زہریلے کیڑے بکثرت رہتے تھے) میں ڈال لیے اور دعا کرنے لگی کہ اے میرے رب! مجھ پر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمسے تو کچھ نہیں کہہ سکتی تھی کیونکہ یہ حرکت خود میری ہی تھی۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 1587]
