العربية (الأصل)
1479 صحيح حديث أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي عَلَى الْحَوْضِ حَتَّى أَنْظُرَ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ مِنْكُمْ، وَسَيُؤْخَذُ نَاسٌ دُونِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ مِنِّي ومِنْ أُمَّتِي فَيُقَالُ: هَلْ شَعَرْتَ مَا عَمِلُوا بَعْدَكَ، وَاللهِ مَا بَرِحُوا يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ فَكَانَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ(رَاوِي هذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَسْمَاءَ)يَقُولُ: اللهُمَّ إِنَّا نعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا، أَوْ نُفْتَنَ عَنْ دِينِنَا
الترجمة الإنجليزية
Asma bint Abi Bakr (may Allah be pleased with them both) narrated that the Prophet (peace be upon him) said: "I will be at the Cistern, watching who comes to me from among you. Some people will be taken away from me, and I will say: 'O Lord, they are from me and from my community.' It will be said: 'Do you know what they did after you? They kept turning back on their heels (i.e., apostatizing).'"
الترجمة الأردية
سیدنا اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”میں حوض پر موجود رہوں گا اور دیکھوں گا کہ تم میں سے کون میرے پاس آتا ہے۔ پھر کچھ لوگوں کو مجھ سے الگ کر دیا جائے گا۔ میں عرض کروں گا کہ اے میرے رب! یہ تو میرے ہی آدمی ہیں اور میری امت کے لوگ ہیں، مجھ سے کہا جائے گا کہ تمہیں معلوم بھی ہے انہوں نے تمہارے بعد کیا کام کیے تھے؟ واللہ یہ مسلسل الٹے پاؤں لوٹتے رہے۔ (دین اسلام سے پھر گئے)“ابن ابی ملیکہ (جو کہ یہ حدیث اسماء سے روایت فرماتے ہیں) کہا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں (دین سے) لوٹ جائیں یا اپنے دین کے بارے میں فتنہ میں ڈال دیے جائیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب الفضائل/حدیث: 1479]
