العربية (الأصل)
1377 صحيح حديث عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللهُ الْوَاشِمَاتِ، وَالْمُوتَشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ، الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبٍ فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: وَمَا لِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ، لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ(وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا)قَالَتْ: بَلَى قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ نَهى عَنْهُ قَالَتْ: فَإِنِّي أَرَى أَهْلَكَ يَفْعَلُونَهُ قَالَ: فَاذْهَبِي، فَانْظُرِي فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا فَقَالَ: لَوْ كَانَتْ كَذَلِكَ مَا جَامَعَتْنَا
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The believer is like a tender plant that is always buffeted by the wind; the believer is always afflicted by trials. The hypocrite is like a cedar tree that does not stir until it is uprooted."
الترجمة الأردية
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ”اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں“۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلام قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت کو معلوم ہوا جو ام یعقوب کے نام سے معروف تھی، وہ آئی اور کہنے لگی کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آخر کیوں نہ میں انہیں لعنت کروں جنہیں رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ملعون ہے؟ اس عورت نے کہا کہ قرآن مجید تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں میں نے تو اس میں کہیں یہ بات نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے بغور پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا، کیا تم نے یہ آیت﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾[سورة الحشر: 7]”رسولصلی اللہ علیہ وسلمتمہیں جو کچھ دیں لے لیا کرو اور جس سے تمہیں روک دیں، رک جایا کرو“نہیں پڑھی؟ اس نے کہا کہ پڑھی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے ان چیزوں سے روکا ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھا جاؤ اور دیکھ لو۔ وہ عورت گئی اور اس نے دیکھا لیکن اس طرح کی ان کے یہاں کوئی معیوب چیز اسے نہیں ملی۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میری بیوی اسی طرح کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1377]
