العربية (الأصل)
1376 صحيح حديث عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا، فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ؛ فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَني أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا، فَقَالَ: لاَ، إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ
الترجمة الإنجليزية
Ka'b ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The example of the believer is like a tender plant. The wind turns it — sometimes it straightens it, sometimes it bends it. The example of the disbeliever is like a cedar tree, standing firm until Allah uproots it when He wills."
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی، اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریمصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپصلی اللہ علیہ وسلمسے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ (دوسرے مصنوعی بال) جوڑ لے، آنسیدناصلی اللہ علیہ وسلمنے اس پر فرمایا:”ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ (مصنوعی بال سر پر رکھ کر جو جوڑے تو) ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“[اللؤلؤ والمرجان/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 1376]
