العربية (الأصل)
حَدَّثَنَاابْنُ الْمُقْرِئِ،وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، قَالا: ثَنَاسُفْيَانُ، عَنْسُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَأَرَادَ أَنْ يَنْكُصَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ امْكُثْ فَمَكَثَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ،" إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةَ يَرَاهَا الرَّجُلُ أَوْ تُرَى لَهُ". ثُمَّ قَالَ:" أَلا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ"، قَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً: فَعَسَى، الْحَدِيثُ لابْنِ الْمُقْرِئِ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both): The Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) lifted the curtain while the people were in rows behind Abu Bakr (may Allah be pleased with him). Ibn Al-Muqri' said: In one narration, Abu Bakr wanted to step back, but the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) gestured to him to stay, and he stayed. Then the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) said: "O people, nothing remains of the glad tidings of Prophethood except the righteous dream that a man sees or is shown to him." Then he said: "Indeed, I have been forbidden from reciting the Quran while bowing or prostrating. As for bowing, glorify the Lord therein. As for prostration, strive in supplication, for it is most likely that you will be answered." Ibn Al-Muqri' said: And he once said 'perhaps' instead of 'most likely.' This hadith is from Ibn Al-Muqri'.
الترجمة الأردية
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے (بیماری کے دوران) پردہ ہٹایا، تو لوگ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے کھڑے تھے، ابن مقریٔ کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے رکنے کا اشارہ کیا، تو وہ رُک گئے، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: اے لوگو! نبوت کی خوشخبریوں میں سے اب صرف نیک خواب ہی باقی رہ گئے ہیں، جو آدمی خود دیکھتا ہے یا اس کے متعلق کسی کو دکھایا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: مجھے حالت رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کریں اور سجدے میں دعا کرنے کی کوشش کریں، کیوں کہ اس کا قبول ہونا بعید نہیں۔[المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 203]
