العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ «إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ رَجُلٍ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ خَرَجَ زَحْفًا فَقِيلَ لَهُ ادْخُلِ الْجَنَّةَ فَيَدْخُلُ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيَقُولُ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ فَيُقَالُ لَهُ أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ تَمَنَّهْ فَيَقُولُ يَا رَبِّ تَنَافَسَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي دُنْيَاهُمْ وَتَضَايَقُوا فِيهَا فَأَنَا أَسْأَلُكَ مِثْلَهَا فَيَقُولُ لَكَ مِثْلَهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ ذَلِكَ فَهُوَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا»
الترجمة الإنجليزية
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated from the Prophet (peace be upon him) who said: "Allah will gather the believers on the Day of Resurrection, and they will be inspired with that thought. They will say: 'If we could seek intercession with our Lord so that He may relieve us from this place of ours.' They will go to Adam and say: 'You are the father of mankind. Allah created you with His Hand, made the angels prostrate to you, and taught you the names of all things. Intercede for us with your Lord so that He may relieve us from this place of ours.' He will say: 'I am not fit for that.' Then he will mention his mistake that he committed...' The hadith continues at length describing how they go to various prophets until they finally come to Muhammad (peace be upon him) who will intercede."
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جمع فرمائے گا اور انہیں اس خیال کا الہام ہوگا۔ وہ کہیں گے: 'اگر ہم اپنے رب کے پاس کسی سے سفارش کرائیں تاکہ وہ ہمیں اپنے اس مقام سے راحت دے۔' وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: 'آپ بنی نوع انسان کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، فرشتوں کو آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے۔ ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس مقام سے راحت دے۔' وہ کہیں گے: 'میں اس کے لائق نہیں ہوں۔' پھر وہ اپنی غلطی کا ذکر کریں گے...' یہ حدیث طویل ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ مختلف انبیاء کے پاس جاتے ہیں یہاں تک کہ آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں جو سفارش فرمائیں گے۔"
