العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ سَائِبَةَ مَوْلَاةٍ لِفَاكِهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ فَرَأَتْ فِي بَيْتِهَا رُمْحًا مَوْضُوعَةً فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا تَصْنَعِينَ بِهَذَا؟ قَالَتْ نَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ لَمْ يَكُنْ فِي الْأَرْضِ دَابَّةٌ إِلَّا أَطْفَأَتِ النَّارَ عَنْهُ غَيْرَ الْوَزَغُ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ ع��لَيْهِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِقَتْلِهِ «
الترجمة الإنجليزية
Imran ibn Musa al-Sakhtiyaniyy narrated to us, Uthman ibn Abi Shaybah narrated to us, Yunus ibn Muhammad narrated to us, Jarir ibn Hazim informed us from Nafi', from Sa'ibah, a freed slave woman of Fakah ibn al-Mughirah, that she entered upon Umm al-Mu'minin Hadrat A'ishah (may Allah be well pleased with her) and saw a spear placed in her house. She said: "O Mother of the Believers, what do you do with this?" She said: "We kill geckos with it, for the Beloved Prophet of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) informed us that when Ibrahim was thrown into the fire, there was no creature on earth except that it extinguished the fire for him, except the gecko, for it would blow on it. So the Beloved Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him) commanded its killing."
الترجمة الأردية
عمران بن موسیٰ سختیانی نے ہمیں بیان کیا، عثمان بن ابی شیبہ نے ہمیں بیان کیا، یونس بن محمد نے ہمیں بیان کیا، جریر بن حازم نے نافع سے، سائبہ فاکہ بن مغیرہ کی آزاد کردہ سے خبر دی کہ وہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئیں اور ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا دیکھا۔ انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! آپ اس سے کیا کرتی ہیں؟ فرمایا: ہم اس سے چھپکلیاں مارتے ہیں کیونکہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور نہ تھا مگر اس نے ان کے لیے آگ بجھائی سوائے چھپکلی کے کیونکہ وہ اس پر پھونک مار رہی تھی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مارنے کا حکم دیا۔
