العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ قَالَ حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ نَمْشِي بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ فَقَامَا وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُمَا فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ يَسِرُّهَا قَالَ ادْنُ عَلْقَمَةُ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ جَارِيَةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا فَاتَكَ؟ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ فَإِنَّا قَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ شَبَابًا فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ» وَهُوَ الْإِخْصَاءُ
الترجمة الإنجليزية
Alqamah ibn Qays narrated: While I and Hadrat Ibn Mas'ud (may Allah be well pleased with him) were walking in Madinah, Hadrat Uthman ibn Affan (may Allah be well pleased with him) met him and took him by the hand. They stood together and I stepped aside from them. When Hadrat Abdullah saw that he had no secret matter, he said: "Come closer, Alqamah." So I came to them while Hadrat Uthman was saying: "Shall we not marry you, O Abdullah, to a young woman who will remind you of what you have missed?" Hadrat Abdullah said: "If you say that, then indeed we were young men with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and he stated to us: 'O young men, whoever among you can afford to marry, let him do so, for it lowers the gaze and guards the chastity. And whoever cannot afford it, let him fast, for it will be a restraint for him.'" — meaning it is like castration.
الترجمة الأردية
علقمہ بن قیس سے روایت ہے کہ میں اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منورہ میں چل رہے تھے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ سے ملے اور ان کا ہاتھ پکڑا۔ وہ کھڑے ہو گئے اور میں ان سے ہٹ گیا۔ جب حضرت عبداللہ نے دیکھا کہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے تو فرمایا: علقمہ قریب آ جاؤ۔ میں ان کے پاس آیا اور حضرت عثمان فرما رہے تھے: اے عبداللہ! کیا ہم تمہاری شادی ایک جوان لڑکی سے نہ کر دیں جو تمہیں تمہارے گزرے ہوئے دنوں کی یاد دلائے؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا: اگر آپ یہ کہتے ہیں تو بے شک ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نوجوان تھے تو آپ نے ہمیں ارشاد فرمایا: «اے نوجوانو! تم میں سے جو نکاح کی استطاعت رکھے وہ نکاح کر لے کیونکہ یہ نظر کو نیچا کرنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو استطاعت نہ رکھے وہ روزے رکھے کیونکہ یہ اس کے لیے ڈھال ہے۔» یعنی خصی کرنے کے مانند ہے۔
