العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ ﷺ مَرَّ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفِرَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ الْحَسَنُ إِلَيْهِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ أقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ «ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ» يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرَزَ ضَفِرِهِ «»
الترجمة الإنجليزية
Ahmad ibn Ja'far al-Qati'i informed us — 'Abd Allah ibn Ahmad ibn Hanbal narrated to us — my father narrated to us — 'Abd al-Razzaq narrated to us — Ibn Jurayj informed us — 'Imran ibn Musa narrated to me — from Sa'id ibn Abi Sa'id al-Maqburi who narrated — from his father who saw Abu Rafi', the freed slave of the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), pass by Hadrat al-Hasan ibn 'Ali (may Allah be well pleased with them both) while he was praying standing with his braided hair fastened at the back of his neck. Abu Rafi' undid it, and al-Hasan turned to him angrily. Abu Rafi' said: 'Turn to your prayer and do not be angry, for I heard the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) say: "That is the seat of the devil" — meaning the place where the braid is fastened.'
الترجمة الأردية
احمد بن جعفر القطیعی نے ہمیں خبر دی — عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے ہم سے بیان کیا — میرے والد نے ہم سے بیان کیا — عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا — ابن جریج نے خبر دی — عمران بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا — سعید بن ابی سعید المقبری سے — ان کے والد سے جنہوں نے ابو رافع مولیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی چوٹی گدی پر باندھ رکھی تھی۔ ابو رافع نے اسے کھول دیا تو حضرت حسن غصے سے ان کی طرف مُڑے۔ ابو رافع نے فرمایا: اپنی نماز کی طرف متوجہ رہو اور غصہ نہ کرو، کیونکہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: 'یہ شیطان کی بیٹھک ہے' — یعنی وہ جگہ جہاں چوٹی باندھی جاتی ہے۔
