العربية (الأصل)
Abū ʿAbdullāh Muḥammad b. Aḥmad b. Mūsá al-Khāzin ؒ Bibukhārá > Ibrāhīm b. Yūsuf al-Hisinjānī > Hishām b. ʿAmmār > Yaḥyá b. Ḥamzah > ʿAmr b. Qays al-Kindī حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْخَازِنُ رَحِمَهُ اللَّهُ بِبُخَارَى ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْهِسِنْجَانِيُّ ثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْكِنْدِيُّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي الْفَوَارِسِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ فَرَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالُوا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ «مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ أَنْ تُرْفَعَ الْأَشْرَارُ وَتُوضَعَ الْأَخْيَارُ وَيُفْتَحَ الْقَوْلُ وَيُخْزَنَ الْعَمَلُ وَيُقْرَأَ بِالْقَوْمِ الْمُثَنَّاةُ لَيْسَ فِيهِمْ أَحَدٌ يُنْكِرُهَا» قِيلَ وَمَا الْمُثَنَّاةُ؟ قَالَ «مَا اكْتُتِبَتْ سِوَى كِتَابِ اللَّهِ ﷻ» وَقَدْ رَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ
الترجمة الإنجليزية
'Amr ibn Qays al-Kindi narrated: I was with Abu al-Fawaris while I was a young lad, and I saw the people gathered around a man. I asked: "Who is this?" They said: "'Abdullah ibn 'Amr ibn al-'As." I heard him narrate from the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) that he stated: "Among the signs of the approach of the Hour is that the wicked shall be elevated and the virtuous shall be degraded, speech shall be abundant and deeds shall be scarce, and the Muthannah shall be recited among a people with none among them who objects to it." It was asked: "What is the Muthannah?" He stated: "Whatever is written besides the Book of Allah (Glorified and Exalted is He)." Al-Awza'i also narrated it from 'Amr ibn Qays al-Sakuni.
الترجمة الأردية
عمرو بن قیس الکندی سے روایت ہے: میں ابو الفوارس کے ساتھ تھا اور نوجوان تھا۔ میں نے لوگوں کو ایک شخص کے گرد جمع دیکھا۔ پوچھا: «یہ کون ہیں؟» کہا: «عبد اللہ بن عمرو بن العاص ہیں۔» میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے سنا کہ فرمایا: «قیامت کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے ہے کہ بُرے لوگ بلند کیے جائیں اور اچھے لوگ گرائے جائیں، بات کثرت سے ہو اور عمل چھپایا جائے، اور قوم میں مُثَنّاۃ پڑھی جائے اور ان میں سے کوئی اس کا انکار نہ کرے۔» پوچھا گیا: «مُثَنّاۃ کیا ہے؟» فرمایا: «جو کچھ کتاب اللہ عزوجل کے سوا لکھا گیا ہو۔» اوزاعی نے بھی عمرو بن قیس السکونی سے یہ روایت کی ہے۔
