العربية (الأصل)
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ مِحْجَنِ بْنِ الْأَدْرَعِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ «يَوْمُ الْخَلَاصِ وَمَا يَوْمُ الْخَلَاصِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَوْمُ الْخَلَاصِ؟ فَقَالَ «يَجِيءُ الدَّجَّالُ فَيَصْعَدُ أُحُدًا فَيَطَّلِعُ فَيَنْظُرُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَقُولُ لِأَصْحَابِهِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى هَذَا الْقَصْرِ الْأَبْيَضِ هَذَا مَسْجِدُ أَحْمَدَ ثُمَّ يَأْتِي الْمَدِينَةَ فَيَجِدُ بِكُلِّ نَقْبٍ مَنْ نِقَابِهَا مَلَكًا مُصْلِتًا فَيَأْتِي سُبْحَةَ الْجُرُفِ فَيَضْرِبُ رِوَاقَهُ ثُمَّ تَرْتَجِفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ فَلَا يَبْقَى مُنَافِقٌ وَلَا مُنَافِقَةٌ وَلَا فَاسِقٌ وَلَا فَاسِقَةٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَيْهِ فَتَخْلُصُ الْمَدِينَةُ وَذَلِكَ يَوْمُ الْخَلَاصِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ على شرط مسلم
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Mihjan ibn al-Adra' (may Allah be well pleased with him) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) addressed the people and stated: "The Day of Deliverance! What is the Day of Deliverance?" — three times. It was asked: "O Messenger of Allah, what is the Day of Deliverance?" He stated: "The Dajjal shall come and ascend Uhud. He shall look out and gaze upon Madinah and say to his followers: 'Do you see that white palace? That is the mosque of Ahmad.' Then he shall come to Madinah and shall find at every passage of its passages an angel with drawn sword. He shall then come to Subhat al-Jurf and pitch his camp. Then Madinah shall shake with three tremors, and no hypocrite man or woman, nor any sinful man or woman, shall remain except that they shall go out to him. Thus Madinah shall be purified, and that is the Day of Deliverance." This is a hadith that is authentic according to the criteria of Muslim, though they did not record it.
الترجمة الأردية
حضرت محجن بن ادرع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: «یومِ خلاص! یومِ خلاص کیا ہے؟» — تین بار فرمایا۔ عرض کیا گیا: «یا رسول اللہ! یومِ خلاص کیا ہے؟» فرمایا: «دجال آئے گا اور احد پر چڑھے گا۔ مدینہ کی طرف جھانکے گا اور اپنے ساتھیوں سے کہے گا: کیا تم وہ سفید محل دیکھتے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر وہ مدینہ آئے گا اور اس کے ہر راستے پر ایک فرشتہ ننگی تلوار لیے ملے گا۔ پھر سبخۃ الجرف آئے گا اور اپنا خیمہ لگائے گا۔ پھر مدینہ تین مرتبہ ہلے گا اور کوئی منافق مرد یا عورت اور کوئی فاسق مرد یا عورت نہ بچے گا مگر اس کی طرف نکل جائے گا۔ اس طرح مدینہ پاک ہو جائے گا اور یہی یومِ خلاص ہے۔» یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے مگر انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
