العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَصْبَهَانِيُّ ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ قَالَ وَحَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ كَانَتْ عِنْدَ مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ وَقُتِلَ عَنْهَا يَوْمَ أُحُدٍ فَتَزَوَّجَهَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ فَوَلَدَتْ لَهُ مُحَمَّدَ بْنَ السَّجَّادِ وَبِهِ كَانَ يُكَنَّى وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ طَلْحَةَ۔»
الترجمة الإنجليزية
Abu Abdullah al-Asbahani informed us, al-Hasan ibn al-Jahm narrated to us, al-Husayn ibn al-Faraj narrated to us, Muhammad ibn Umar said: 'Hadrat Hamnah bint Jahsh (may Allah be well pleased with her) was married to Hadrat Mus'ab ibn Umayr (may Allah be well pleased with him), and he was martyred on the Day of Uhud. Then Hadrat Talhah ibn Ubaydillah (may Allah be well pleased with him) married her, and she bore him Muhammad al-Sajjad -- by whom he was known by his kunyah -- and Abdullah ibn Talhah.'
الترجمة الأردية
ابو عبد اللہ الاصبہانی نے ہمیں خبر دی، حسن بن الجہم نے ہم سے بیان کیا، حسین بن الفرج نے ہم سے بیان کیا، محمد بن عمر نے فرمایا: 'حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں تھیں اور وہ غزوۂ اُحد کے دن شہید ہوئے۔ پھر حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے نکاح کیا اور ان کے بطن سے محمد السجاد پیدا ہوئے -- جن کی وجہ سے ان کی کنیت تھی -- اور عبد اللہ بن طلحہ پیدا ہوئے۔'
