العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ ثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا أَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ مُغْضَبٌ فَقَالَ «مَا شَأْنُكَ؟» فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ؟ فَقَالَ «مَا لَكَ وَلَهُمْ؟» قَالَ يَلْقَى بَعْضُهُمْ بَعْضًا بِوُجُوهٍ مُشْرِقَةٍ فَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حَتَّى اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ قَالَ فَلَمَّا أَسْفَرَ عَنْهُ قَالَ «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ امْرِئٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يَحْكُمَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ» قَالَ ثُمَّ قَالَ «مَا بَالُ رِجَالٍ يُؤْذُونَنِي فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ الرَّجُلِ صِنْوِ أَبِيهِ»
الترجمة الإنجليزية
The Shaykh Abu Bakr ibn Ishaq informed us, Isma'il ibn Qutayba narrated to us, Yahya ibn Yahya, Ishaq ibn Ibrahim, and Abu Bakr ibn Abi Shayba all narrated to us, they said: Jarir informed us from Yazid ibn Abi Ziyad, from Abdullah ibn al-Harith, from al-Muttalib ibn Rabi'a who said: "Hadrat al-Abbas (may Allah be well pleased with him) came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) while he was angry. He stated: 'What is the matter with you?' He submitted: 'O Messenger of Allah, what is between us and the Quraysh? When they meet each other, they meet with cheerful faces, but when they meet us, they meet us differently.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) became angry until his face reddened, then he stated: 'By Him in Whose Hand is my soul, faith does not enter the heart of any man until he loves you for the sake of Allah and for the sake of His Messenger.' Then he stated: 'O people, whoever harms my uncle has harmed me, for indeed the uncle of a man is like his father.'"
الترجمة الأردية
شیخ ابو بکر بن اسحاق نے ہمیں خبر دی، اسماعیل بن قتیبہ نے ہمیں بیان کیا، یحییٰ بن یحییٰ، اسحاق بن ابراہیم اور ابو بکر بن ابی شیبہ سب نے ہمیں بیان کیا، جریر نے یزید بن ابی زیاد سے، عبد اللہ بن الحارث سے، مطلب بن ربیعہ سے روایت کیا، فرمایا: «حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ ارشاد فرمایا: کیا بات ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں قریش سے کیا واسطہ ہے؟ وہ جب آپس میں ملتے ہیں تو خوش چہرے سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ایسے چہروں سے ملتے ہیں جو ہم نہیں پہچانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم غضبناک ہوئے یہاں تک کہ چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، پھر ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی آدمی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوتا جب تک وہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر محبوب نہ رکھے۔ پھر ارشاد فرمایا: اے لوگو! جس نے میرے چچا کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند ہے۔»
